Saturday, 25 February 2012

وہی جوان ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا ---------- شباب جس کا ھے بے داغ، ضرب ہے کاری

ہماری زندگیوں میں کئی ایسے لوگ آتے ھیں جن سے شاید ہماری ملاقات کچھ دنوں تک محدود ہوتی ہے، مگر ان کا احساس تمام زندگی ہمارے ساتھ رہ جاتا ہے۔ انسان رب کریم کی سب سے خوبصورت مخلوق ہے، مگر ان انسانوں میں چند ایسے ہوتے ہیں جو اپنی کشش سے ہمیں اپنے سحر میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جان پہچان نہ ہونے کے باوجود ان سے ایک ایسی نسبت ہوتی ہے کے زندگی کے کسے مرحلے پر وہ بھلائے نہیں بھولتے۔ اور شاید ایسے خوبصورت لوگوں کا اصل مقام اللہ عزوجل نے جنت ہی رکھا ہے،کے اکژر ایسے وجود بہت جلد ہم سے بچھڑ جاتے ہیں اور اپنی نزر پوری کر کے فردوس بریں کو اپنا ٹھکانا بنا لیتے ہیں۔

جہانگیر، میرا ہنستا مسکراتا، شرمیلا اور خاموش طبع دوست۔ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کے میرا اور جہانگیر کا رشتہ صرف پاکستان ملٹری اکیڈمی کے دو پلٹون میٹس کا نہیں تھا، بلکہ میرا اور جہانگیر کا اس سے بڑھ کر ایک ایسا مظبوط بندھن تھا کے جس کی اساس کسی دنیاوی رشتہ ناتے سے کئی گنا بڑھ کر طاقت ور تھی۔

میں اور جہانگیر اس رشتے میں جڑے ہوئے تھے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ اور جس کا 'نصب العین اللہ تعلیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ و علیہ و اسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول تھا'۔ ہم دونوں اس ہی تنطیم کے راہی تھے جو برس ہا برس سے نوجوانان پاکستان کے کردار کی تشکیل اور اخلاق کے نکھار کے لیئے سر گرم عمل ہے۔

مجھے آج بھی زیارت کی خوبصورت وادی کے وہ روشن دن یاد ہیں جب میری اور جہانگیر کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اسلامی جمیعت طلبہ کی صوبائی تربیت گاہ زیارت کے ایک ریسٹ ہاوس میں منعقد کی گئی تھی اور میں اس وقت کے ناظم اعلیٰ  کو کوئٹہ سے لے کر زیارت پہنچھا تھا۔ ہماری تنظیم میں ناظم اعلیٰ کی آمد ایک جذباتی منظر ہوتا ہے، اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھ کر کارکنان کا جوش و جذبہ عروج پر ہوتا ہے۔ میرے دماغ میں آج بھی وہ فلک شگاف نعرے تازہ ہیں جو ناطم اعلیٰ کو دیکھتے ہی اس ریسٹ ہاوس سے بلند ہوئےتھے اور میرے خیال میں پورے زیارت میں کوئی ایسا ذی روح نہ ہوگا جس تک ان نعروں کی گونج نہ پہنچ گئی ہو۔

ان تمام نعروں اور نوجوانوں کے ہجوم میں جہانگیر کچھ الگ سے ھی نمایاں تھا۔ اس کا سنت رسول سے مزین روشن چہرہ اپنے کردار کی پاکیزگی اور اپنے مقصد حیات سے مکمل آگہی کا آئینہ دار تھا۔ اور اس پر اس کی معصوم شرمیلی سی مسکراہٹ اور ذہین آنکھیں تمام لوگوں میں ممتاز کر رہی تھیں۔ سلام دعا اورتعارف کے بعد پتہ چلا کہ جہانگیر بھائی کئ سو میل کا سفر طے کرکے کوہلو سے آئے تھے۔ میں اور میرے بڑے بھائی چونکہ پروگرام شروع ہونے کے دوسرے دن ناظم اعٰلی کے ہمراہ پہنچھے تھے، اس لیے ہمارے ساتھ بھی مکمل مہمانوں والا سلوک کیا جا رہاتھا۔ شاید جہانگیر بھائی کی اس روز مطبخ (کچن) کی ذمہ داری تھی، اس لیئے ہر تھوڑی دیر میں وہ انتہای انہماک کے ساتھ ہمارے لیےکھانے، گرم گرم روٹیاں اور میٹھا لے کر پہنچ جاتے تھے. ہم کھا کھا کر تھک چکے تھے مگر ان کا اصرار رہتا کے آپ لوگ مزید کھائیں، ان کے خلوص اور محبت نے شاید واپسی تک میرا وزن چار سے پانچ کلو ضرور بڑھا دیا ہوگا۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور آخر کار وہ دن بھی آیا جب ہم دونوں کئی مراحل سے گزرتے ہوئے کاکول ایبٹ آباد کی ٹھنڈی فضاؤں میں تھرڈ پاکستان بٹالین کی حضرت عبیدہ بن جراح (ر۔ض)  کے نام سے موسوم عبیدہ پلٹون میں پھر ایک دوسرے کے ساتھ ہو گئے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تمام کیڈٹس افسری کے کئی خواب لے کر داخل ہوتے ہیں، لیکن جس طرح سے شروع کے چند دنوں میں وہ خواب پامال ہوتے ہیں ان کی روداد کے لیے ایک الگ ہی کتاب درکار ہے۔

خیر مختصر یہ کے شروع کے چند دنوں میں کیڈٹس کی سب سے بڑی خواہش شاید صرف پیٹ بھر کر کھانا اور جی بھر کر سونا ہی ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے میرا کمرا جہانگیر کے کمرے سے متصل تھا، اور مجھے وہ دن اچھی طرح سے یاد ہیں جب اگر کبھی کچھ کھانے پینے کو جہانگیر بھائی کے پاس کہیں سے آتا تھا تو وہ سیدھا میرے کمرے میں پہنچ جاتے اور اپنے سے زیادہ بڑھ کر مجھے کھلانے کی کوشش کرتے۔ خاص طور پار جہانگیر بھائی کو دودھ سے بڑی رغبت تھی، اور وہ کئی ڈبے منگوا کر کمرے میں رکھ لیتے تھے اور پھر تقریباً روزانہ رات کو ایک ڈبہ سب سے چھپا کر میرے کمرے میں ‘سمگل‘ کردیا کرتے تھے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دوران ٹرینینگ میری گردن پر زوردار چوٹ آئی اور میں قریباً قریباً تمام ٹرینینگ میں بے انتہا مشکلات کا شکار ہو گیا۔ اس ہی دوران ہمیں ایک فیلڈ ایکسرسائز پر اکیڈمی سے باہر جانا پڑا۔ اس ایکسرسائز کے آخری حصے میں ہمیں کئی میل کا فاصلہ پیدل طے کرنا تھا۔ میں اس زمانے  میں شاید تھوڑا جذباتی زیادہ تھا تو میں نے اس پیدل مارچ  میں اپنے کاندھوں پر لائٹ مشین گن سوار کرنے کی ذمہ داری لے لی۔ آغاز تو ٹھیک رہا لیکن جب ایل ایم جی کے وزن کا اثر میری گردن پر پڑا تو ٹوٹی گردن میں میرے صحیح معنوں میں اوسان خطا ہو گئے۔ چونکہ اس مارچ میں سب اپنی قوت و طاقت کے مطابق چلتے رہتے ہیں اس لیئے میں اپنے باقی ساتھیوں سے جدا ہو کر کچھ دور نکل آیا تھا اور اب اس ایل ایم جی کو مجھے اکیلے ہی لے کر چلنا تھا۔ میری رفتار بالکل ٹوٹ چکی تھی اور قریب تھا کے میں مکمل زمیں بوس ہی ہو جاتا کاے مجھے کسی کے تیز تیز قدموں کی آواز آئی، اور پھر دور سے مجھے جہانگیر بھائی کا مانوس چہرا نظر آیا۔ جہانگیر بھائی نے تیزی سے بڑھ کار ایل ایم جی مجھ سے لی، میرا کمر پر لدھا بیگ پیک اپنے کندھے پر رکھا اور اپنے ہاتھ سے پیالہ بنا کرجلدی جلدی مجھے پانی پلایا۔ جہانگیر بھائی کے الفاط ‘‘روحان میری جان آپ کو کس نے کہا تھا کہ یہ آپ لے کر چلو، آپ کو میں نطر نہیں آیا کہیں کہ یہ بیس کلو کی بندوق آپ مجھ کو دیتے، ابھی آپ نے آئندہ میرے ہوتے ہوئے ایسا کیا تو آپ سے بات چیت بند‘ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں۔ اور پھر باقی پورا راستہ وہ میرا وزن اٹھائے میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔


زندگی کے ادوار بدلتے رہتے ہیں۔ میں پی ایم اے سے نکل کر لندن آ گیا اور جہانگیر اپنے کندھوں پر پھول سجائے آرمی آفیسر بن گئے۔ یقیناً اللہ کے عظیم بندے بہت جلد اپنی منزل پا لیتے ہیں، میں نے اور جہانگیر نے ایک ہی نصب العین کو اپنی زندگی کا مشن بنایا، ایک ہی جذبے کے ساتھ ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا موٹو رکھنے والی فوج کا حصہ بنے اور شہادت کی خواہش دل میں رکھتے ہوئے اپنی پریکٹکل زندگی کا آغاز کیا۔۔لیکن اس کا جذبہ عظیم ترتھا، 10جولائی 2009 کا دن وہ دن تھا جب جہانگیر اس جہان فانی سے چھٹکارا حاصل کر کے حیات جاوداں پا گیا۔ بے شک ہم سب کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے، پر کس قدر عظیم ہیں وہ لوگ جن کو رب کریم نے اور اس کے رسول امین نے ہمیشہ کی زندگی کی نوید سنائی، وہ مقام کے جس کے پانے والے پکار اٹھتے ہیں کہ ‘فزت بربک الکعبہ‘ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا کم ہی لوگوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ جو اپنی قیمتی ترین چیز، اپنی جان اپنے رب کی راہ میں لٹا دیتے ہیں وہ ہم جیسے عام انسان نہیں ہوتے۔ بے شک میرے رب نے سچ کہا کے ‘جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ تہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس عزت والا رزق پاتے ہیں‘۔

جہانگیر میرے دوست، میرے رفیق، میرے بھائی تم کو تمہاری ہمیشگی مبارک ہو، میرا اور تمہارا وعدہ اپنے رب سے ایک ہی تھا، لیکن تم اپنے وعدہ کی پاسداری میں ہم سے زیادہ پکے نکلے۔ میری دعا ہے کہ میرا رب مجھے بھی تمہارے نقش قدم پر چلنے کی ہمت، قوت اور توفیق دے اور جس طرح اس دنیا میں خدا نے ہم دونوں کو ساتھ رکھا،  مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن بھی میرا رب مجھے تم سے دور نہ رکھے گا

تم جس طرح اِس دنیا میں ہم سب کے لیے ایک روشن مثال تھے، اس ہی طرح اس دنیا میں بھی تم نے اپنی مثال ہم سے پہلے ہی قائم کردی ہے۔ تمہارا جذبہ ایمانی اور شوق شہادت تمہیں ہم سب پہ بازی دلا گیا۔ کوہلو کے شہید تم اپنے والدین عزیز و اقارب اور قبیلے کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیئے جس نے تمہارے ساتھ تھوڑا بہت بھی وقت گزارا تھا باعث فخر ہو۔شاید تم جیسے جوانوں کے لیئے ہی حکیم الامت نے کہا تھا کہ

وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ھے بے داغ ضرب ھے کاری

اگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری

عجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ھے ہمہ سوز
کہ نیستاں کے لیئے بس ھے ایک چنگاری

خدا نے اس کو دیا ہے شکوہِ سلطانی
کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کرّاری

نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
یہ بے کلاہ ھے سرمایہ کلہ داری


Sunday, 12 February 2012

The Beauty and Love..

Living in London is not the easiest thing to do. Life in London whizzes pass at a breath-taking pace, especially if you are working somewhere in the central zones and have to travel daily via the train or tube network, you realise how fast life in London is.

I used to travel daily via Paddington and Circle Line down to South Kensington, and then after our office move, to Victoria. Nearly spent 13 months doing so, about 1-1.5 hours of daily commute from my house. Having spent my childhood and youth in a very quiet town of Pakistan, this daily commute was an extraordinary personal experience for me. I grew up normally walking or cycling to my school and college early in the mornings in a quiet and serene backdrop of high mountains and chilly breeze. At most the noise was of occasional car horns or me humming to myself, but here in London there were hundreds and hundreds of people going around with me at each station. All sorts of different characters, men in expensive sleek suits, women with loads of bags, tourists running around with maps and God know who else. Each one just walking around, waiting, reading or listening to music as such in a state of trans or something.

There were few regular commuters who struck up 'sort of friendships' with other regular commuters on their routes, whenever they saw each other they passed each other the iconic 'London Smile' which is normally nothing else than flexion of face muscles and even if a conversation took place up after months of smiling at each other, it always sounded highly 'manufactured' and focused around the journey, weather and front page news of the famous 'Metro'.

I was really blessed to have fabulous colleagues at my work, although I have never been the best person to spark conversations and jokes when I am at work, but the happy presence of many of my colleagues just kept me going through the ordeal of journey into work. The end was always the brightest part of my day when I can just forget about the past hour for the next 7-8 hours and enjoy the work and people around me. Gradually I got used to it and often found myself passing those empty smiles and chatting about the weather with people travelling with me, but I never for one day 'enjoyed' that 2 hours of time when I was moving around London with zillion of human souls around me.

And that is what just strikes me the most about the personality of Prophet Muhammad (peace be upon him). Isn't this thing plain extraordinary that there are nearly 1.6 Billion peopling in this world who loves him more than anyone else on this planet? Regardless of the religious beliefs or what fanatics have turned his teachings into, on simple human level isn't this remarkable that even after 1400 years of his death, many humans weep in love at a mere mention of his name?

As I said during my journeys I must have seen hundreds thousands of faces, and frankly some very beautiful ones, but none came close to be loved. Vice versa numbers must have seen me every day, but why is that a single Human being who died 1400 years ago, who wasn't ever captured on a picture frame neither was his voice recorded on a mp3 is still loved by nearly quarter of the whole population of humans on this land?

Hours of deliberation has leaded me to believe in one and only one thing. It was the beauty of that man, his personality, his character, his humbleness, his kindness and his relentless love for each and everyone around him that converted his fiercest foes into his strongest friends. We humans are incomplete without love, we want to be loved, and oddly enough readily give away everything for someone who treats us with love, kindness and care.

I am pretty dead certain that even only if I would have loudly shouted 'Good Morning' to everyone on every train/tube I took through those 13 months, today there would be people who would silently look forward to seeing me each morning. There will be people who will spark up with smiles by just watching me on the station (although few will be sniggering behind my back) but people start 'loving' only those who show love for others. This is natural human phenomenon.

That is why I believe that the beautiful Prophet (peace be upon him) loved each and every one of us more than anyone else as humans. Not muslims, but as humans because only the purest love for human kind has the strength in it to last decades and centuries to come. Only his love for humans regardless of race, culture, social status, nationality or gender converted him from a simple human being like me and you to the nucleus of a whole belief that draws millions of people just to visit the place where he once lived.

You may ask me why I don't I feel the same love from him? The answer is simple you don’t' find something if you don't look for it. Read his words, read any book about him, see a documentary about him, search Google about his life, search how he lived as a loving husband, as a caring father, as a closes friend, as a teacher to his students, as an economist for his society, as a judge for different cases and above all as a human amongst other humans. And then you will realise the beauty, the care, the kindness and above all the love he had for everyone around him and the millions who will follow him.