جہانگیر، میرا ہنستا مسکراتا، شرمیلا اور خاموش طبع دوست۔ شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کے میرا اور جہانگیر کا رشتہ صرف پاکستان ملٹری اکیڈمی کے دو پلٹون میٹس کا نہیں تھا، بلکہ میرا اور جہانگیر کا اس سے بڑھ کر ایک ایسا مظبوط بندھن تھا کے جس کی اساس کسی دنیاوی رشتہ ناتے سے کئی گنا بڑھ کر طاقت ور تھی۔
میں اور جہانگیر اس رشتے میں جڑے ہوئے تھے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ اور جس کا 'نصب العین اللہ تعلیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ و علیہ و اسلم کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول تھا'۔ ہم دونوں اس ہی تنطیم کے راہی تھے جو برس ہا برس سے نوجوانان پاکستان کے کردار کی تشکیل اور اخلاق کے نکھار کے لیئے سر گرم عمل ہے۔
مجھے آج بھی زیارت کی خوبصورت وادی کے وہ روشن دن یاد ہیں جب میری اور جہانگیر کی پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اسلامی جمیعت طلبہ کی صوبائی تربیت گاہ زیارت کے ایک ریسٹ ہاوس میں منعقد کی گئی تھی اور میں اس وقت کے ناظم اعلیٰ کو کوئٹہ سے لے کر زیارت پہنچھا تھا۔ ہماری تنظیم میں ناظم اعلیٰ کی آمد ایک جذباتی منظر ہوتا ہے، اپنے قائد کی ایک جھلک دیکھ کر کارکنان کا جوش و جذبہ عروج پر ہوتا ہے۔ میرے دماغ میں آج بھی وہ فلک شگاف نعرے تازہ ہیں جو ناطم اعلیٰ کو دیکھتے ہی اس ریسٹ ہاوس سے بلند ہوئےتھے اور میرے خیال میں پورے زیارت میں کوئی ایسا ذی روح نہ ہوگا جس تک ان نعروں کی گونج نہ پہنچ گئی ہو۔
ان تمام نعروں اور نوجوانوں کے ہجوم میں جہانگیر کچھ الگ سے ھی نمایاں تھا۔ اس کا سنت رسول سے مزین روشن چہرہ اپنے کردار کی پاکیزگی اور اپنے مقصد حیات سے مکمل آگہی کا آئینہ دار تھا۔ اور اس پر اس کی معصوم شرمیلی سی مسکراہٹ اور ذہین آنکھیں تمام لوگوں میں ممتاز کر رہی تھیں۔ سلام دعا اورتعارف کے بعد پتہ چلا کہ جہانگیر بھائی کئ سو میل کا سفر طے کرکے کوہلو سے آئے تھے۔ میں اور میرے بڑے بھائی چونکہ پروگرام شروع ہونے کے دوسرے دن ناظم اعٰلی کے ہمراہ پہنچھے تھے، اس لیے ہمارے ساتھ بھی مکمل مہمانوں والا سلوک کیا جا رہاتھا۔ شاید جہانگیر بھائی کی اس روز مطبخ (کچن) کی ذمہ داری تھی، اس لیئے ہر تھوڑی دیر میں وہ انتہای انہماک کے ساتھ ہمارے لیےکھانے، گرم گرم روٹیاں اور میٹھا لے کر پہنچ جاتے تھے. ہم کھا کھا کر تھک چکے تھے مگر ان کا اصرار رہتا کے آپ لوگ مزید کھائیں، ان کے خلوص اور محبت نے شاید واپسی تک میرا وزن چار سے پانچ کلو ضرور بڑھا دیا ہوگا۔
وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور آخر کار وہ دن بھی آیا جب ہم دونوں کئی مراحل سے گزرتے ہوئے کاکول ایبٹ آباد کی ٹھنڈی فضاؤں میں تھرڈ پاکستان بٹالین کی حضرت عبیدہ بن جراح (ر۔ض) کے نام سے موسوم عبیدہ پلٹون میں پھر ایک دوسرے کے ساتھ ہو گئے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تمام کیڈٹس افسری کے کئی خواب لے کر داخل ہوتے ہیں، لیکن جس طرح سے شروع کے چند دنوں میں وہ خواب پامال ہوتے ہیں ان کی روداد کے لیے ایک الگ ہی کتاب درکار ہے۔
خیر مختصر یہ کے شروع کے چند دنوں میں کیڈٹس کی سب سے بڑی خواہش شاید صرف پیٹ بھر کر کھانا اور جی بھر کر سونا ہی ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے میرا کمرا جہانگیر کے کمرے سے متصل تھا، اور مجھے وہ دن اچھی طرح سے یاد ہیں جب اگر کبھی کچھ کھانے پینے کو جہانگیر بھائی کے پاس کہیں سے آتا تھا تو وہ سیدھا میرے کمرے میں پہنچ جاتے اور اپنے سے زیادہ بڑھ کر مجھے کھلانے کی کوشش کرتے۔ خاص طور پار جہانگیر بھائی کو دودھ سے بڑی رغبت تھی، اور وہ کئی ڈبے منگوا کر کمرے میں رکھ لیتے تھے اور پھر تقریباً روزانہ رات کو ایک ڈبہ سب سے چھپا کر میرے کمرے میں ‘سمگل‘ کردیا کرتے تھے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ دوران ٹرینینگ میری گردن پر زوردار چوٹ آئی اور میں قریباً قریباً تمام ٹرینینگ میں بے انتہا مشکلات کا شکار ہو گیا۔ اس ہی دوران ہمیں ایک فیلڈ ایکسرسائز پر اکیڈمی سے باہر جانا پڑا۔ اس ایکسرسائز کے آخری حصے میں ہمیں کئی میل کا فاصلہ پیدل طے کرنا تھا۔ میں اس زمانے میں شاید تھوڑا جذباتی زیادہ تھا تو میں نے اس پیدل مارچ میں اپنے کاندھوں پر لائٹ مشین گن سوار کرنے کی ذمہ داری لے لی۔ آغاز تو ٹھیک رہا لیکن جب ایل ایم جی کے وزن کا اثر میری گردن پر پڑا تو ٹوٹی گردن میں میرے صحیح معنوں میں اوسان خطا ہو گئے۔ چونکہ اس مارچ میں سب اپنی قوت و طاقت کے مطابق چلتے رہتے ہیں اس لیئے میں اپنے باقی ساتھیوں سے جدا ہو کر کچھ دور نکل آیا تھا اور اب اس ایل ایم جی کو مجھے اکیلے ہی لے کر چلنا تھا۔ میری رفتار بالکل ٹوٹ چکی تھی اور قریب تھا کے میں مکمل زمیں بوس ہی ہو جاتا کاے مجھے کسی کے تیز تیز قدموں کی آواز آئی، اور پھر دور سے مجھے جہانگیر بھائی کا مانوس چہرا نظر آیا۔ جہانگیر بھائی نے تیزی سے بڑھ کار ایل ایم جی مجھ سے لی، میرا کمر پر لدھا بیگ پیک اپنے کندھے پر رکھا اور اپنے ہاتھ سے پیالہ بنا کرجلدی جلدی مجھے پانی پلایا۔ جہانگیر بھائی کے الفاط ‘‘روحان میری جان آپ کو کس نے کہا تھا کہ یہ آپ لے کر چلو، آپ کو میں نطر نہیں آیا کہیں کہ یہ بیس کلو کی بندوق آپ مجھ کو دیتے، ابھی آپ نے آئندہ میرے ہوتے ہوئے ایسا کیا تو آپ سے بات چیت بند‘ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں۔ اور پھر باقی پورا راستہ وہ میرا وزن اٹھائے میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔
زندگی کے ادوار بدلتے رہتے ہیں۔ میں پی ایم اے سے نکل کر لندن آ گیا اور جہانگیر اپنے کندھوں پر پھول سجائے آرمی آفیسر بن گئے۔ یقیناً اللہ کے عظیم بندے بہت جلد اپنی منزل پا لیتے ہیں، میں نے اور جہانگیر نے ایک ہی نصب العین کو اپنی زندگی کا مشن بنایا، ایک ہی جذبے کے ساتھ ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا موٹو رکھنے والی فوج کا حصہ بنے اور شہادت کی خواہش دل میں رکھتے ہوئے اپنی پریکٹکل زندگی کا آغاز کیا۔۔لیکن اس کا جذبہ عظیم ترتھا، 10جولائی 2009 کا دن وہ دن تھا جب جہانگیر اس جہان فانی سے چھٹکارا حاصل کر کے حیات جاوداں پا گیا۔ بے شک ہم سب کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے، پر کس قدر عظیم ہیں وہ لوگ جن کو رب کریم نے اور اس کے رسول امین نے ہمیشہ کی زندگی کی نوید سنائی، وہ مقام کے جس کے پانے والے پکار اٹھتے ہیں کہ ‘فزت بربک الکعبہ‘ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا کم ہی لوگوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ جو اپنی قیمتی ترین چیز، اپنی جان اپنے رب کی راہ میں لٹا دیتے ہیں وہ ہم جیسے عام انسان نہیں ہوتے۔ بے شک میرے رب نے سچ کہا کے ‘جو لوگ خدا کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ تہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس عزت والا رزق پاتے ہیں‘۔
جہانگیر میرے دوست، میرے رفیق، میرے بھائی تم کو تمہاری ہمیشگی مبارک ہو، میرا اور تمہارا وعدہ اپنے رب سے ایک ہی تھا، لیکن تم اپنے وعدہ کی پاسداری میں ہم سے زیادہ پکے نکلے۔ میری دعا ہے کہ میرا رب مجھے بھی تمہارے نقش قدم پر چلنے کی ہمت، قوت اور توفیق دے اور جس طرح اس دنیا میں خدا نے ہم دونوں کو ساتھ رکھا، مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن بھی میرا رب مجھے تم سے دور نہ رکھے گا
تم جس طرح اِس دنیا میں ہم سب کے لیے ایک روشن مثال تھے، اس ہی طرح اس دنیا میں بھی تم نے اپنی مثال ہم سے پہلے ہی قائم کردی ہے۔ تمہارا جذبہ ایمانی اور شوق شہادت تمہیں ہم سب پہ بازی دلا گیا۔ کوہلو کے شہید تم اپنے والدین عزیز و اقارب اور قبیلے کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیئے جس نے تمہارے ساتھ تھوڑا بہت بھی وقت گزارا تھا باعث فخر ہو۔شاید تم جیسے جوانوں کے لیئے ہی حکیم الامت نے کہا تھا کہ
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ھے بے داغ ضرب ھے کاری
اگر ہو جنگ تو شیرانِ غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزالِ تاتاری
عجب نہیں ہے اگر اس کا سوز ھے ہمہ سوز
کہ نیستاں کے لیئے بس ھے ایک چنگاری
خدا نے اس کو دیا ہے شکوہِ سلطانی
کہ اس کے فقر میں ہے حیدری و کرّاری
نگاہ کم سے نہ دیکھ اس کی بے کلاہی کو
یہ بے کلاہ ھے سرمایہ کلہ داری