Wednesday, 1 May 2013
"چڑھتے سورج کے پجاری ....!"
ہم انسانوں کی ایک غالب اکثریت اپنی سوچ اور فکر کے زاویوں میں بڑی حد تک اپنی ذات تک محدود ہوتے ہیں . چوٹی چوٹی چیزیں ہمارے ذہنوں پر ایسے نقوش چھوڑ دیتی ہیں جو رہتی عمر تک ہماری شخصیت رہن سہن اور برتاؤ کا حصّہ رہتی ہیں . بچپن کی کئی عادتیں ہمارے بھڑھاپے تک ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی .
ان ہی عادات میں سے ایک عادت ہماری دوسرے انسانوں پر بہت جلد بھروسا کر لینے کی ہے. نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کے ہم سب اپنی زندگی کے کسی موڑ پر یہ ضرور چاہتے ہیں کے کوئی ایسا ہو جس پر ہم اپنے حال اور مستقبل کے حالات کے لیے بھروسا کر سکیں .
پرانے زمانے میں لوگ اپنے بادشاہوں آقاؤں اور سرداروں سے اس ہی بھروسے اور اعتماد کے رشتے سے جڑے ہوے ہوتے تھے . ان کی عزت ناموری اور خواہش کے لیے اپنی جانیں تک لٹا دیتے تھے. برطانوی قوم اس کی آج بھی ایک جیتی جاگتی مثال ہے . یہ لوگ ملکہ اور شاہی خاندان سے عقیدت کی حد تک محبت کرتے ہیں .ان کا سب کہا درست اور ان کا سب کیا جائز .
اور یہی بھروسا اکثریت کو اندھی تقلید تک لے پہنچتا ہے. بھر ہر نیا آنے والا شخص انتہائی آرام کے ساتھ انسانوں کو بڑے پیمانے پر بیوقوف بنا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کو استعمال کرتا ہے.
ہماری پاکستانی قوم کے ساتھ یہ حالات خصوصیت سے کئی بار ہو چکے ہیں . بھٹو ، طاہر القادری ، الطاف حسسیں ، زرداری . ہمارے قومی شعور سے ہر ایک نے جی بھر کر فائدہ اٹھایا اور میڈیا کی مخصوص لابی کے ساتھ مل کر ایک ایک کرکے اپنا بھروسا قائم کیا ،اپنے مقاصد حاصل کیے اور اطمینان کے ساتھ اپنا راستہ لے کر الگ ہو لیے . بلکے ان میں سے کچھ تو آج تک انسانوں سے اپنا مفاد نکلوانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کر رہے ہیں اور ہماری قوم ایک اندھی تقلید میں ان کے پیچھے رواں دواں ہے.
اور اب ہمارے پوشیدہ آقاؤں نے ہمارے معاشرے میں ایک اور چڑھتا سورج بنانے کی تییاری کر لی ہے.
عمران خان . دودھ سے دھلا اور خوشبوؤں سے لبریز ایک نیا لیڈر. جس کو قومی شعور پر ہر طریقے سے سوار کردیا گیا ہے. میڈیا ، سوشل میڈیا ، جلسوں ، جلوسوں اور بہترین مارکیٹنگ کے ذریعے اب ہم سب کو یہ باور کر وایا جا رہا ہے کے بھروسے کے لائق اب پورے ملک میں صرف ایک یہ ہی موصوف بچے ہیں .
مگر افسوس تو ہماری قوم پر ہے . جو آج تک کئی بار بیوقوف بننے کے بعد بھی یہ ماننے کو تیّار نہں کے یہ سب ہم سب کے ساتھ ایک اور ڈرامے کی تییاری ہے. ہمارے ملک کا سواد اعظم اب پھر اس چھڑتے سورج کے ویسے ہی پجاری بن چکے ہیں جیسے کے اس سے پہلے کئی حضرات کے لئے تییار اور آمادہ ہوے. اب یہ سورج کتنے دن کی بعد اپنی حدّت سے لوگوں کو جلا کر رکھ دے گا ، یہ شاید آنے والا وقت بوہت جلدی ہی بتا دے گا.
لیکن بار بار دھوکا کھا کر شاید صرف عقلمند ہی کوئی فائدہ اٹھاتے ہیں .....اقبال نے سہی ہی کہا تھا کے :
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر
Subscribe to:
Post Comments (Atom)

No comments:
Post a Comment